Gam e Ashiuqi Urdu story/novel series
Gam-e-Aashiqi💔
Episode no :1
by writer: anabiya saher
#رائٹر_انابیہ_سحر 💕
#قسط_نمبر_1
وریشہ کالج سے آتے ہی کچن میں گھس جایا کرتی تھی۔۔۔
اور پھر '"بھوک لگی بھوک لگی"" کا شور مچایا کرتی ۔۔۔
ابھی بھی وہ آتے ہی کچن پہونچی ہوئ تھی۔۔۔
اور شور شرابہ شروع کر دیا۔۔۔
""ماما بھوک لگی ہے جلدی کھانا دیں""۔۔۔
وریشہ سلپ کے اوپر چھڑ کے بیٹھ گئی۔۔۔ سامنے وریشہ کی ماما کھڑی تھی جو وریشہ کو گھورتی رہی۔۔۔
""وریشہ صبر بھی کوئی چیز ہوتی ہے ۔لیکن تمہیں کیا معلوم وہ کیا ہوتی ہے۔۔۔۔""
وریشہ کی ماما نے اسے گھورا۔۔
""ماما آپ کو پتہ ہے مجھ سے صبر نہیں ہوتا۔۔۔۔"""
وریشہ انکی گردن میں ہاتھ ڈال کر بہت لاڈ پیار سے بولی۔۔۔۔ جیس پر انہوں نے وریشہ کو خود سے دور کیا۔۔۔
"""دور جاؤں مجھے پتہ نہیں بے کیا تمہارا """"
"ماما مینے کیا کیا اب۔۔۔"وریشہ معصوم سی صورت بنا کر بولی۔۔۔
""جاؤں فریش ہو کر آؤں پھر کھانا لگاتی ہوں""۔۔۔۔
وریشہ ", اوکے ماما""۔۔۔ ۔ کہتی اپنے کمرے میں چلی گئیں ۔۔۔۔
تھوڑی دیر بعد وہ کھانے کی میز پر تھی۔۔۔
""""ماما بابا کب تک آجائے گے """""۔۔۔۔وریشہ کھانا کھاتے ہوئے بولی۔۔
"""آجائے گے شام تک کیوں""۔۔۔
ماما نے حیرت سے پوچھا۔
:""ویسی",۔۔۔وریشہ نے لاپرواہی سے کہا۔۔۔
""اسی ویسی تم نہیں پوچھتی بتاؤ کیا کام ہے""۔۔۔ماما نے مشکوک انداز میں کہا۔۔۔۔
""ماما کیا بھئی اب پوچھ بھی نہیں سکتی کیا میں بابا کا۔۔۔"""
وریشہ معصومیت سے بولی۔۔۔
"""نہیں میں تمہاری ماں ہوں تم نہیں بتاو کیا کام ہے اپنے بابا سے"""۔۔۔
وریشہ کی ماما کو وریشہ کا پتا تھا وہ بنا مطلب کے کسی کا نہیں پوچھتی تھی۔۔۔۔ اور اس سب میں وریشہ کے ماما بابا کا کوئی قصور نہیں ہے انکے لاڈ پیار نے ہی وریشہ کو ایسا بنایا تھا۔۔۔۔
اکلوتی بیٹی جو تھی۔۔۔
وریشہ کو نہ چاہتے ہوئے بھی بتانا پڑا ۔۔۔
""""پیسے چاہیے"""۔۔۔
"""کتنے""۔۔۔
"""50 ہزار"" ۔۔۔۔
""" وریشہ 2 ہفتے پہلے ہی تو تم نے 30 ہزار لیے تھے وہ کہاں ہیں"""۔۔۔۔انہوں نے زارا غصے سے پوچھا۔۔۔
""ماما وہ خرچ ہو گئے"""۔۔۔
وریشہ کھانا کھاتے ہی بولی ۔۔۔
""""خرچ کردیئے کرتی کیا ہو اتنے پیسوں کا
آنے دو تمہارے بابا کو مانا کرتی ہوں انہیں کے تمہیں اتنے پیسے نہیں دیا کریں۔""""۔۔۔
وریشہ ہنسی۔۔۔
"""ماما آپ کو لگتا ہے بابا مجھے یانی کے وریشہ خانزادی کو مانا کاریں گے""۔۔۔۔
وریشہ خود کی طرف اشارہ کرتے ہنستی چالی جا رہی تھی ۔۔۔۔
""""تمہارے اس ہی یقین کی وجہ سے اب میں تمہیں کیا بولوں""", ۔۔۔۔
"""مان لیں ماما آپ بابا سے ڈرتی ہیں ۔"""وریشہ آنکھ مار کے کہا ۔۔۔۔
:"""ڈرتی نہیں"اسنے میں بس تمہارے معاملے میں تھوڑی سی ڈر جاتی ہوں۔۔۔۔بیٹا اپنی حرکتوں کو تھوڑا کنٹرول کرو"""۔۔۔
ماما نے وریشہ کے گال پر ہلکا سا تھپڑ مار کے کہا۔۔۔
میں نے کونسی حرکت کی ۔۔۔۔""۔۔
وریشہ نے منہ بنایا۔۔۔
"""اور میں ابھی بڑی ہو گئی ہوں """
""ماں باپ کے لئے سب بچے ہی ہوتے ہیں"""
"""ماما پیسے""وریشہ انکی طرف دیکھ کر سنجیدہ انداز میں بولی۔۔
"""""کون سے پیسے تم نے میرے پاس کب رکھوائے تھے"""ماما نے حیرت سے پوچھا ۔۔۔۔
"""ماما""وریشہ نے زور سے کہا
"""ہاہاہاہاہا لڑکی میں اس میں آپکی کوئی ہیلپ نہیں کر سکتی اپنے بابا سے کہنا یہ"":
"""اوکی فائن۔۔"""
""آپ نے کھانا کھا لیا "؟؟"۔۔۔
ماما نے وریشہ سے پوچھا اور میز سے برتن اٹھا نے لگی ہی تھی کچن سے انکی ملازمہ اگی۔۔۔
"""روزینہ یہ سب سمیٹ دو"""۔۔
"""جی اچھا باجی جی""۔۔۔۔
وریشہ اسی وہاں پر بیٹھی ہوئی تھی۔۔۔۔
"""ماما بابا آئیں گے تو میں آ جاو گی نیچے ابھی روم میں جا رہی ہوں"""۔۔۔وریشہ کہہ کر روکی نہیں اور ماما اس کو مسکرا کر دکھتی رہیں ۔۔۔۔
"::یہ پتا نہیں کب بڑی ہو گی""۔۔۔
ماما دل میں کہ کر باہر نکل گی کچن سے۔۔۔۔۔
( *☆*☆*☆*☆*☆*☆*☆*☆*☆*)
شام کافی ہو گی تھی وریشہ ابھی تک آرام فرما رہی تھی۔۔۔
نیچے لاونج میں کافی شور مچا ہوا تھا۔۔۔
بڑے سے حال روم میں کچھ لوگ موجود تھے ۔۔اسے میں وریشہ کی ماما بھی وہ وہاں پر موجود تھی...
"""شازیہ بیگم پری کہا ہے""۔۔۔
ایک آدمی نے پوچھا جو اپنے ہی عمر کے ایک صاحب سے بات کر رہے تھے پھر کچھ خیال آنے پر شازیہ سے پوچھا جو وریشہ کی ماما تھی۔۔۔
"""جی وہ اپنے کمرے میں ہے میں بولتی ہوں""۔
شازیہ بیگم مسکرا کے وریشہ کے کمرے کی جانب بڑھی۔۔۔۔
شازیہ بیگم وریشہ کمرے کا دروازہ کھول کر اندر داخل ہوتی ہیں تو پورا کمرا اندھیرے میں ہوتا ہے۔۔۔۔تھوڑا سا آگے جاتی ہیں تو کیسی چیز سے ٹکراتی ہیں لیکن خود کو سنبھلتی آگے جا کر لائٹس اون کرتی ہیں۔۔۔۔تو دل پر ہاتھ رکھ کر غصے سے وریشہ کی طرف جا کر اس کے سر سے کمبل کھنچ دیتی ہیں ۔۔۔۔۔
"""وریشہ یہ روم کا کیا حال بنایا ہوا ہے""""
""ماما سونے دیں""" وریشہ نے نیند میں دبی آواز میں کہا اور کمبل اپنے اوپر ڈال دیا۔۔۔
"""وریشہ اٹھوں ٹائم دیکھا ہے کیا ہو رہا ہے۔۔۔۔""""
شازیہ بیگم وریشہ کے کمرے کو اپنی جگہ پر کرنے میں لگ گئ تھی ۔۔۔ سا تھ ساتھ اسے اٹھا بھی رہیں تھیں۔۔۔۔
""""ماما مجھے کیا پتا کیا ٹائم ہو رہا ہے آپ خود بھی ٹائم دیکھ سکتی ہیں"""۔۔۔۔
وریشہ نے کہا اور سونے کی کوشش کی۔۔۔
"""نہیں پتا تو اٹھو اور نیچے اوں"""
""ماما"" وریشہ زور سے بولی۔۔۔
"""مجھے کچھ نہیں سننا جلدی اوں بابا بولا رہے ہیں تمہارے"""
"""بابا آگے""
وریشہ خوشی سے اپنے اُوپر سے کمبل ہٹا کر بولی اور اٹھ کر بیٹھ گئی ۔۔۔
"""ہاں لیکن انکے ساتھ انکے دوست بھی آئے ہیں اور انکی فیملی بھی """"۔۔۔۔
وریشہ نے منہ بنایا۔۔۔۔
"""لیکن ماما وہ کس خوشی میں آئے ہیں۔۔۔"":
"""بدتمیز نہیں وریشہ تیار ہو کر اوں اور یہ ڈریس پہنا اچھا""""۔۔۔۔
وہ وریشہ کا پورے کمرے کی چیزوں کو اپنی جگہ کر کے وریشہ کو کہا اور چلی گئی۔۔۔وریشہ اپنے کمرے کا وہ حل کرتی کے کوئی بندہ دیکھ لیں تو یہی کہہ کے یہاں زلزلہ آیا تھا ۔۔۔۔
وریشہ کو کپڑے
ہمیشہ سے شازیہ بیگم ہی نکل کر دیتی تھی کیونکہ وریشہ پینٹ شرٹ ہی پہنتی تھی۔۔۔
"""کیا مصیبت ہے گیسٹ بابا کے ہیں اور تیار میں ہوں"""
اور میں یہ پہنوں """؟ وریشہ نے شازیہ بیگم کی نکلے ہوئے کپڑوں کو دیکھا تو سڑا ہوا منہ بنایا ۔۔۔
وریشہ بڑبڑاتی واشروم کی طرف چلی گئی۔۔۔۔
نہا دھو کر آئ تو وریشہ نے ہلکے سے اورنج رانگ کا سوٹ پہن رکھا تھا دوپٹا گلے میں ڈال کر شیشے کے سامنے آئ اور خود کو دیکھا اور ""نوٹ پیڈ "" کہتی کمرے سے باہر نکل گئ۔۔۔۔۔
وریشہ بڑبڑاتی نیچے اتر رہی تھی جب لاؤنج میں بیٹھے لوگوں پر نظر پڑی تو روک گئی سامنے وریشہ کی ماما بیٹھی ایک خاتون سے بات کر رہی تھی
وریشہ کو انکو دیکھ کر ہنسی آگئی ۔۔۔۔
جو عمر میں کافی زیادہ تھی اور میک اپ اسے کیا ہوا تھا جیسے اپنے بیٹے کے ولیمے پر تشریف لائیں ہو ۔۔۔اور سوٹ کی شاید کمی تھی جو اپنی بیٹی کا پہن لیا ہو ۔۔۔وریشہ کو سوچتے ہوئے بڑی ہنسی آ رہی تھی۔۔۔۔
اور دوسرے صوفے پر وریشہ کے بابا بیٹھے تھے اور انکے ساتھ انکے دوست ۔۔۔ وریشہ نام سے جانتی تھی اپنے بابا کے کچھ دوستوں کو لیکن زیادہ کبھی ملاقات نہیں ہوئی۔۔۔
اور ایک الگ تھلگ صوفے پر بیٹھے شخص پر نظر جب وریشہ کی گئی تو جو مسکراہٹ تھی وہ غائب ہو گئی۔۔۔۔
"""""تو یہ اس لنگور کے ماں باپ ہیں""""۔..
وریشہ سوچتی ہوئی نگاہوں سے دیکھ رہی تھی کہ پھر آواز پر چونکی اس کے بابا نے کہا ۔۔۔۔
""""وریشہ بیٹا وہاں کیا کر رہی ہیں یہاں آوہ"""""" ۔۔۔۔
اور وریشہ مسکراتی ہوئی انکے پاس گی اور سلام کیا ۔۔۔۔
"""جیتی رہو گڑیا"""۔۔۔
ماما کے ساتھ کھڑی ان خاتون نے کہا اور وریشہ کا گل تھپتھپا۔۔۔۔۔
"ہاے"
۔وریشہ جو ماما کو دیکھ رہی تھی بابا کے ساتھ بیٹھے لڑکے نے کہا اس ہائے سن کر چہرہ عجیب و غریب ہو گیا ۔۔۔۔
وریشہ نے کوئی جواب نہیں دیا اور آکر اپنی ماما کے ساتھ بیٹھ گی۔۔۔اسکو برا لگا لیکن مسکرا دی۔۔۔۔
"""ہاں تو پری بیٹا اسٹڈی کیسی جا رہی ہے""":۔۔۔۔انکل نے پوچھا۔۔۔۔
وریشہ کو انکا پری کہنا اچھا نہیں لگا پری صرف اس کے بابا ہی کہتے ہیں ۔۔۔۔۔۔
وریشہ نے بس جی اچھی کہا اور ماما کو دیکھنے لگی """"کے اب میں جا رہی ہوں""""
ماما نے کچھ نہيں کہا بس چپ رہنے کا کہا۔۔۔۔
"""۔۔انیس لگتا ہے وریشہ بیٹا کو زیادہ بات کرنا نہیں پسند۔۔۔"""
وریشہ انکی طرف دیکھ کر دانت پیس کر بولی۔۔۔۔
"""انکل جی بالکل آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں""" ۔۔۔۔۔۔۔
وہ صاحب کچھ کہتے اس سے پہلے ہی انکا بیٹا بول پڑا ۔
"""پری پاپا کو باتوں گی نہیں ہم تو ایک ہی کالج میں ہیں""""۔۔۔۔۔۔
اتنا معصومانہ انداز تھا کے وریشہ کو اپنے کان اور آنکھیں خراب لگی۔۔۔۔۔
"""پری بیٹا کبھی بتایا نہیں اپنے کے شہریار اور آپ ایک ہی کالج میں ہیں"""۔۔۔۔انیس خانزادہ نے کہا ۔۔۔
""""بابا شہریار ہمارے گھر کبھی نہیں آیا تو مجھے کسے پتا ہوتا کے یہ خالد انکل کا بیٹا ہے """""۔۔۔۔۔۔وریشہ نے آخر میں مسکرا کر کہا۔۔۔۔
"""کیوں بیٹا آپکی بات نہیں ہوتی ایک دوسرے سے کالج میں """" ؟؟۔۔
خالد صاحب نے کہا اور دونوں کو دیکھا
وریشہ نے پہلے شہريار کو دیکھا پھر خالد انکل کو ۔۔۔۔۔
""""نہیں انکل ہماری کلاس ایک ہی ہے لیکن ہماری زیادہ بات نہیں ہوتی انکے فرینڈز الگ میرے الگ"""" ۔۔۔۔
وریشہ معصومیت سے کہا اور اپنے ہاتھ جھڑے۔۔۔۔۔
"""جی پاپا ہم تو بہت اچھے دوست ہیں """" شہريار نے مسکرا کر وریشہ کی طرف دیکھ کر کہا اور آنکھوں ہی آنکھوں میں اشارے بھی کر رہا تھا ۔۔۔۔۔
وریشہ کو اس کا مسکرانا بالکل پسند نہیں آرہا تھا۔۔۔
""""ماما مجھے کل کے اسئمینٹ بنانا ہے اینڈ سوری مجھے جانا چاہیے اب""""۔۔۔
وریشہ شازیہ بیگم کو دیکھ کر چبا چبا کر کہ کر وہاں سے جانے لگی تو انیس خانزادہ نے روک لیا ۔
"""بیٹا کہا جارہی ہو شہريار پہلی بار گھر آیا ہے گھر دکھاؤں اس کو":"""۔۔۔
وریشہ نے اسے دیکھا اپنے بابا کو جیسے کیسی کی لاش ٹھکانے لگانےکا کہ دیا ہو۔۔۔۔
""چلیں"""
وریشہ کچھ کہتی اس سے پہلے شہريار جانے کے لئے کھڑا ہو گیا۔۔۔۔۔
""""چل بیٹا تیری لاش نہ خودی اپنے گاڈ رن میں تو دیکھنا نہیں۔۔۔
وری تیرا گاڈرن ہی گندا ہوگا دفا کر:"""" ۔۔وریشہ اپنی ہی سوچوں میں کہ جا رہی تھی ۔۔۔۔چونکی تو وہ بھی شہریار کی آواز سے۔۔۔
""""کیا ہوا میڈم اتنا ہینڈسم سا نوجوان نہیں دیکھا کیا کبھی """"۔۔۔۔ ۔وریشہ نے جب دیکھا تو وہ اپنے لون میں کھڑے تھے رات ہو چوکی تھی ۔۔اسے میں شہریار کا یوں مسکرا کے دیکھنا وریشہ کو زہر لگ رہا تھا۔۔۔۔۔
""""آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر کیا دیکھ رہےہو """"
وریشہ نے اب کی بار غصے سے کہا ۔۔۔۔
"""اتنا بھڑک کیوں رہی ہو کھا تھوڑی جاؤں گا دیکھنے سے""""۔۔۔۔
شہریار نے بنا اثر لیے ادھر ادھر دیکھنے لگا۔۔۔۔
"""""جان بوجھ کر آئے ہو نہ یہاں""""
وریشہ سینے پر ہاتھ بندھ کر سنجیدگی سے پوچھا۔۔۔۔۔
""", فالتو وقت نہیں میرے پاس جو تم جیسی پر برباد کروں مجھے پتہ ہوتا تو کبھی نہ آتا پاپا زبردستی لائے تھے""""۔۔۔۔شہریار منہ بنا کر بولا
"""او اور تم دودھ پیتے بچے انگلی پکر کر آگے""""وریشہ نے اب بیزار ہو کر کہا
شہريار طنزیہ مسکرایا۔۔۔۔
"""اچھا ذرا یہاں آنا"" شہریار نے وریشہ کو ٹھوڑا سا ہاتھ ہی لگایا ہوگا کہ وریشہ نے غصے سے پیچھے کردیا اور وہاں جاکر کھڑی ہوگئی جہاں شہریار نے آنے کا کہا تھا ۔۔۔۔
سامنے بڑی سی کھڑکی تھی شیشے کی جس سے اندر کا منظر صاف نظر آ رہا تھا گھر کے سب خوش گپیوں میں مصروف تھے۔۔۔۔
""""اس میں کیا ہے""""وریشہ نے بیزار ہو کر شہریار کو دیکھا ۔۔
"""اس خوشی کو محسوس کرو وری جو میرے اور تمہارے ماما بابا کے چہروں پر ہیں """"
""کیا بکوس کر رہے ہو"""۔۔۔ وریشہ کو اب چیڑ ہونے لگی تھی اس کی باتوں سے ۔۔۔
"""اندر پتہ ہے کیا بات ہو رہی ہے """۔؟؟؟شہریار نے دنیا جہان کی معصومیت اپنے چہرے پر سجا کر کہا۔۔۔۔
"""نہیں""" وریشہ نے اپنا غصہ ضبط کرتے ہوئے کہا
"""وہاں تمہارے اور میرے """ ایک لفظ نہیں بولنا تم"""" آگے شہریار اپنی بات پوری کرتا اس سے پہلے ہی وریشہ نے بات کاٹ دی۔۔۔۔
"""تم اور تمہارے فضول خیالات اپنے پاس رکھوں سمجھے""""
وریشہ نے کہا لیکن شہریار خاموش رہا پھر
پورے لون کا جائزہ لینے لگا جہاں مین گیت کے سامنے ایک چھوٹا سا دروازہ تھا شاید کوئی سرونٹ کوارٹز شہريار اتنا سمجھ کے لون کو دیکھنے لگا
کھڑکی کے پاس تھوڑے سے فاصلے پر گولائی میں سیڑھیاں بنی تھی وہ اس طرف جانے لگا۔۔۔۔
""""" یہ تمھارا گھر نہیں سمجھے جہاں دل کیا وہاں چلے جاو گے """"" وریشہ اس کا رستہ روک کر کھڑی ہو گئی لال آنکھوں سے گھور رہی تھی۔۔۔۔
""""جاؤں شرافت سے اندر جا کر بیٹھوں"""""
"""گھر آئے مہمان کی عزت بھی نہیں کرنی آتی تمہیں تو""""۔۔۔۔
شہریار نے افسوس سے کہا
""""گھر آئے مہمان کی عزت تب کی جاتی ہے جب وہ عزت کے قابل ہو جس کی کوئی عزت ہی نہیں اس کی عزت وریشہ نہیں کرتی """وریشہ نے چبا کر کہا۔۔۔۔۔
"""""شہریار نے کچھ نہیں کہا بس چپ چاپ کھڑا منہ میں بابل چابتے وریشہ کو گھور رہا تھا۔۔۔۔
""""گھور کیا رہے ہو جاؤں یہاں سے""""۔۔۔وریشہ یہ کہ کر جانے ہی لگی تھی کہ شہريار نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا۔۔۔۔۔۔
""""بہت غورور ہے نہ خود پر تمہیں ایک دن میں ہی اس کو ختم کروں گا دیکھنا تم"""" ۔۔۔۔
وریشہ نے ہاتھ کو جھٹکا دے کر شہریار کو ایک زور دار تھپڑ مارا
""""آئندہ مجھے ہاتھ لگایا یا کیسی بھی قِسم کی دھمکی یا بکواس کی تو مجھے سے برا کوئی نہیں ہو گا آج تو تم یہاں میرے گھر تک تو آگے آئندہ دوبارہ اپنے پیروں پر نہیں پہنچ پاؤں گے """"۔۔۔۔
وریشہ خون کھولتی غصے سے سرخ ہوتی اپنے کمرے کی طرف جا رہی تھی کے انیس خانزادہ نے آواز دی ۔۔۔۔
وریشہ خونخوار ہوتی آنکھوں سے دیکھتی پہلے بابا کے ساتھ بیٹھےہوئے خالد انکل پر نظر پڑی پھر سامنے بیٹھتی شازیہ پر سب کو گھورتی ہوئی اپنے کمرے کی طرف چلی گئی ۔۔۔۔
شازیہ اور انیس خانزادہ ایک دوسرے کو دیکھ رہے تھے کہ کیا بات ہوئی ۔۔۔۔
اور پھر شہريار بھی غصے میں منہ پر ہاتھ پھرتا خلد انکل کے ساتھ بیٹھ گیا ۔۔۔۔اور خود کو سنبھالنے لگا۔۔۔
"""وریشہ کیوں اسے چلی گی شیری""""۔۔۔۔خالد انکل نے سب سے پہلے پوچھا۔۔۔۔
اسکا تو دماغ خراب ہے پاپا ۔۔۔شہريار بس ایسا سوچا ساکا ۔۔۔
""""کچھ نہیں پاپا بس تھوڑی بات بری لگی تھی وریشہ کو """"شہریار اپنے گال پر ہاتھ رکھ کر زبردستی مسکرا کر بولا
"""چلو کوئی نہیں دوستوں میں تو ناراضگی ہو ہی جاتی ہے ویسے ۔۔۔
شازیہ بیگم کھانا کھلانا بھی ہے یہ مہمان کو بھوکا پیاسا ہی واپس بھیجنا ہے""""۔۔۔ انیس خانزادہ نے بات بدل لی تو شازیہ بیگم مسکراتی ہوئی کچن کی طرف بڑھ گئی ۔۔۔۔۔
☆☆☆☆☆☆
کب مہمان گئے کب وہ غصے میں سوئی وریشہ کو پتہ ہی نہیں چلا ۔۔۔رات کے جانے کس پہر شازیہ بیگم اس کے روم میں آئ تھی وریشہ کو غصے میں بس اتنا ہی ہوش تھا کہ وہ کپڑے بدل کر سوئ تھی
"""پری اٹھو اسے کسے سو رہی ہو کچھ کھائے بغیر """"
وریشہ نے اٹھ کر سر شازیہ کی گود میں رکھ دیا ۔۔۔۔۔
"""کیا ہوا غصے میں کیوں تھی""" شہریار نے کچھ کہا؟؟؟"""
شازیہ وریشہ کے بالوں میں ہاتھ پھر رہی تھی نرمی سے پوچھا ۔۔۔
"""ماما وہ شہریار بہت گھٹیا انسان ہے"""۔۔۔
وریشہ اسکا نام لیتے ہی غصہ آنے لگا۔۔۔۔
""کیوں بیٹا کیا ہوا ، کچھ کہا کیا اس نے """"
""نہیں ماما وہ بولتا ہی کیوں ہے جب بھی بولتا ہے فضول بولتا ہے """"
وریشہ کو سہی بات بتانا ٹھیک نہیں لگا وریشہ اور شہریار کالج کے ہی دشمن ہیں بات کالج میں رہے زیادہ بہتر ہے ۔۔۔۔
"""کوئی تو وجہ ہوگی نہ پری""""
"""وجہ ماما وہ کالج میں سب سے ہی لڑتا رہتا ہے وہ بالکل بھی اچھا نہیں ہے مجھے نہیں پسند وہ کالج میں بھی ہماری آپس میں نہیں بنتی """"
"""لیکن اس کے گھر والے تو اچھے تھے تمہارے بابا کے دوست ہیں """شازیہ بیگم کو تعجب ہوا سن کر
"""ماما کیا اس کے گھر والے اچھے ہیں تو اسکو بھی اچھا ہوناچاہیے؟ ؟؟"""وریشہ کو عجیب لگا
"""ہاں جب ہم خود اچھے ہونگے تو ہمارے اولاد بھی اچھی ہوگی"""شازیہ بیگم اسکو پیار سے سمجھا رہی تھی ۔۔۔
"""نہیں ماما ایسا نہیں ہوتا اس کے ماما کو دیکھا تھا اپنے پسٹیڑی کی دوکان لگ رہی تھی اتنا میک اپ"""
"""بری بات پری ایسا نہیں کہتے کیسی کا مذاق اڑایا نہیں جاتا؟""""ماما نے سمجھنے ولے انداز میں کہا۔۔
"""وہ تو ٹھیک ہے ماما بٹ آپ ہی تو کہتی ہیں کے سب اپنی ماما سے پہچانے جاتے ہیں مچھے تو اسکی ماما بھی اچھی نہیں لگی"""""
""نہیں بیٹا اسا نہیں کہتے"""
"""اچھا نہیں کہتی اوہ ماما اپنے بابا سے پوچھا پھر پیسوں کا""""وریشہ کو ایک دم یاد آیا اور اٹھ کر بیٹھ گئی ۔۔۔۔
"""آپ آ رہی ہونا خود پوچھ لیں نہ """"
شازیہ بیگم پری کے گل پر ہلکا سا تھپڑ مار کے بولی اور جانے کے لیے اٹھ کھڑی ہوئی۔۔۔۔
""""ماما بابا منہ کرائیں گے """"وریشہ نے منہ بنایا
تم جانو اور تمہارے بابا میں کچھ نہیں بول سکتی آ جاو کھانا کھالوں """"" یہ کہتی وہ وہاں سے چلی گئی اور وریشہ منہ بنا بیٹھی رہی پھر کچھ سوچ کر اٹھ گئی ۔۔۔۔۔
☆☆☆☆☆☆
"""وریشہ یہ کوئی سونے کا ٹائم تھا،"""" وہ جیسی کھانے کی میز پر آئ تو انیس خانزادہ بولے۔۔۔""""اور اسے مہمانوں کے سامنے سے کسے تم اٹھ کر چلی گئی کیا اچھے بچے اسے کرتے ہیں"""""
وریشہ کی تو کلاس شروع ہو گئی تھی اور وہ سر نیچے کیے بیٹھی رہی۔۔۔۔
"""اب کچھ بولو گی آپ؟ ؟؟""" وریشہ کو خاموش بیٹھے دیکھا تو دوبارہ بولے"
"بابا نہ تو میں کوئی بچی ہوں نہ ہی کوئی غلطی کی مجھے وہ اچھے نہیں لگے""""
وریشہ کوئی بات دل میں نہیں رکھتی تھی جو ہوتا منہ پر بولتی اور کیسی کو اچھی لگے یا بری بول دیا کرتی تھی۔۔۔۔
"""وریشہ بیٹا ایک بات تو باتوں کبھی آپکو کوئی اچھا بھی لگا ہے۔۔۔۔میرے سارے دوستوں سے تمہیں پرابلمز ہوتی ہے"""اس بر وہ برا مانتے ہوئے بولے۔۔۔ شازیہ خاموش تھی جب بھی یہ باپ بیٹی آپس میں بات کرتے تھے وہ چوپ ہی رہتیں۔۔۔۔
"""نہیں بابا وہ سجاد حسین انکل کتنے اچھے ہیں اتنے فرینڈلی ہیں کتنی مزے مزے کی باتیں کرتے ہیں """" وریشہ انکی طرف دیکھ کر بڑے جوش سے بتا رہی تھی۔۔۔
"""پری بیٹا اآج مجھے یقین ہو گیا پہلے بس شک تھا،،،"""انیس خانزادہ افسوس سے بولے وریشہ کو سمجھ نہیں آئی وہ نہ سمجھیں میں انکو دیکھنے لگی
"""کیس بات پر"""وریشہ نے پوچھا
"""یہی کے آپ پاگل ہو"""" انیس خانزادہ ہنس کر بولے
وریشہ پہلے نہیں سمجھی پھر جب سمجھ آئی تو اففففف کرتی رہے گی
'''بابا آپ بھی نہ میں کوئی پاگل و گال نہیں ہوں"""" وریشہ ناراضگی سے بولی پھر کھانا کھانے لگیں
""""بیٹا جی تم اور تمہاری فضول باتیں سجاد سے بہت زیادہ ملتی ہیں اس لیے میرے سب دوستوں میں سے تمہیں وہ پسند ہے۔""""۔۔۔۔
وریشہ منہ بنا کر بیٹھی رہی کچھ دیر تک وہ نہ بولی تو انیس خانزادہ شازیہ سے مخاطب ہوے ۔۔۔
"""شازیہ بیگم نیلوفر آپا (انیس خانزادہ بہن ) کا فون آیا تھا آج"""۔۔۔
"""اچھا خیریت سے فون کیا آپا نے"""۔۔۔
""ہاں سب خیریت ہے وہ کہ رہے تھی کے کافی ٹائم ہو گیا ہے ہم نے گاؤں چکر نہیں لگیا وریشہ کو لیکر آجائے کچھ دن """"۔۔۔ انہوں نے تفصیل سے بتایا ساتھ کھانا بھی کھا رہے تھے۔۔۔۔
اس سے پہلے شازیہ کچھ کہتی وریشہ بول پڑی ساری ناراضگی بھولا کے خوش ہو کر بولی
""" بابا ہم جائے گے وہاں """"
"""نہیں کیوں جائیں گے ہم وہاں تم تو ناراض ہو نہ"""
انیس مزے سے بولے ۔۔
"""بابا میں ناراض نہیں ہوں اپنے ہی مجھے پاگل کہا تھا"""" وریشہ پھر ناراضگی سے بولی تو انیس ہنس دیے۔۔۔
"""اب میں اپنی پری کے ساتھ مذاق بھی نہیں کرسکتا"""۔۔۔انہوں نے پیار سے کہا
""بٹ آ ایسا مزاق بابا""وریشہ منہ بگڑ کے بولی
"""اچھا نہیں کہتا اپنی سمجھدار پاگل بیٹی کو پاگل"""" اس بر زور دار قہقہہ لگایا انیس خانزادہ نے
""وریشہ جانے لگی تو انیس خانزادہ نے ہاتھ پکر کے وریشہ کو بیٹھا دیا۔۔۔۔
"""""مزاق کر رہا ہوں میری پری جیسی کسی کی بیٹی ہے بھلا """انیس خانزادہ نے پیار سے کہا۔۔۔
وریشہ پھر ناراضگی سے دیکھتی رہی پھر بولی
"""میری بات مانے گے تو میں ناراضگی ختم کروں گی """""
ہاں کیوں نہیں """ انیس خانزادہ فوران مان گئے
"""لائے دیں مجھے 50 ہزار""""وریشہ نے اپنا ہاتھ انکے سامنے کرتے ہوئے کہا
"""اتنے پیسوں کا کیا کروں گی پری"""انیس خانزادہ بولتے اس بار شازیہ بیگم نے کہا
"""ماما پلیز مجھے چاہئیں اور بابا دیں رہے ہیں مجھے""وریشہ نے ضد کر کے کہا
""مجھے اتنے پیسے دینے میں کوئی حرج نہیں ہے لیکن بیٹا اتنے پیسوں کا کروں گی کیا"""
""بابا آپ بھی پوچھ رہے ہیں مجھے سے"""
وریشہ نے صدمے سے چلائی ۔۔۔۔۔
"""اف پری بیٹا آرام سے اچھا کل لے جانا بس خوش """" انیس خانزادہ نے بات ختم کرتے ہوئے کہا
اور وریشہ خوشی سے ناچتی ہوئی انیس خانزادہ کو پیار کرتے ہوے اپنے کمرے میں بھاگ گئی ۔۔۔۔۔
☆☆☆☆☆☆☆#جاری_ہے ^^^
کسی لگی آپ سب کو پہلی قسط ؟؟؟
آپکی رائے کی منتظر--
اقسط انشاءاللہ بہت جلد☺
Next episode: uploaded soon
Writer:anabiya saher
Follow for more series

Comments
Post a Comment